23 اگست 2026 - 16:48
ریاض کا خنجر دبئی کے گلے پر/ امارات کی منڈی زوال کے دہانے پر

سعودی عرب کی مرکزی بینک نے حال ہی میں امارات کی جانب جانے والے تمام مالی لین دین کی زیادہ سخت جانچ کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا، لیکن اس کے نتیجے میں تاجروں اور کمپنیوں کی ڈرافٹس دنوں اور ہفتوں تک رک جاتے ہیں یا واپس لوٹ آتے ہیں۔ ریاض کا کہنا ہے کہ یہ عمل منی لانڈرنگ روکنے اور بینکنگ سسٹم کی حفاظت کرنے کے لئے ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اس نے امارات کو لبنان اور عراق جیسے خطرناک مالیاتی ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔

ماہرین اسے امارات کی اوپک سے علیحدگی (اپریل 2025) کے خلاف ایک بالواسطہ اقتصادی جواب قرار دیتے ہیں؛ یعنی سعودی عرب یہ پیغام دے رہا ہے کہ سیاسی فیصلوں کے اقتصادی اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ یہ تنازع اس وقت بڑھا جب ریاض نے غیر ملکی کمپنیوں کو اپنے علاقائی ہیڈکوارٹر ریاض منتقل کرنے کی ہدایت کی، جس سے کاروباری مرکز کے طور پر دبئی کے کردار کو براہِ راست چیلنج کیا گیا ہے۔

پہلے سعودی پاکٹ امارات بھیجنا صرف چند دن کا کام تھا، مگر اب اس کے لئے متعدد مراحل، اضافی دستاویزات اور کئی محکموں کی منظوری درکار ہے۔ اس مشکل سے بچنے کے لیے کچھ کمپنیاں ترکی یا قطر کے راستے پیسے بھیج رہی ہیں، اور کچھ سعودی کلائنٹس نے اماراتی شراکت داروں سے کہا ہے کہ وہ امارات سے باہر دفتر قائم کریں۔

سعودی اقدام کی وجہ سے امارات کو اس سے چار بڑے نقصان اٹھانا پڑ رہے ہیں:

1۔ اپنے سب سے بڑے تجارتی شریک کے ساتھ مالی لین دین میں رکاوٹ، جس سے ہزاروں اماراتی کمپنیوں کی آمدنی کم ہو رہی ہے؛

2۔ دبئی کی ساکھ مزید مجروح ہو رہی ہے، اور سرمایہ کار متبادل مقامات پر منتقلی پر سوچنے پر مجبور ہیں؛

3۔ کاروباری لاگت بڑھ گئی ہے؛ کمپنیوں کو ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے تنخواہیں، کرائے اور خام مال کی خریداری جیسے شعبے متاثر ہو رہے ہیں، اور چھوٹے کاروبار دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں؛

4۔ امارات کو بین الاقوامی سطح پر پُرخَطَر مالیاتی علاقوں میں شمار کیا جانے لگا ہے، جس سے اس کی ساکھ مزید کمزور ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سعودی اقدام ایک "نرم طاقت" ہے جس نے بغیر سرکاری پابندیوں کے امارات کے ساتھ کاروبار کو مہنگا اور  پُرخَطَر بنا دیا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان سالانہ 40 ارب ڈالر کی تجارت ہے، اسی لئے مکمل علیحدگی فی الحال ممکن نہیں ہے، لیکن یہ تنازع کاروباری ماحول کو غیر یقینی بنا رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو پریشان کر رہا ہے اور امارات کے مستقبل کو مبہم بنا رہا ہے۔

اس پوری کشمکش کا سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں، چھوٹے تاجروں اور درمیانے کاروباروں کو ہو رہا ہے؛ وہی لوگ جن کی ماہانہ تنخواہیں اور روزگار دو ممالک کے درمیان اسی مالی لین دین پر منحصر ہیں۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی اختلافات، چاہے فوجی تنازع تک نہ بھی پہنچیں، عوام کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر براہِ راست اور فوری اثر ڈالتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: الہام مؤذنی

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha